کلامِ مسیح

1۔ نجات کے بارے تعلیم:

وہاں پر نیکدیمس نامی ایک شخص تھا جو یہودی عدالت ِعالیہ کا رکن تھا آپ کی گفتگو اُ س کے ساتھ ہوئی  اور اُس نے پوچھا کہ کوئی انسا ن کس طر ح سے نجا ت حاصل کر سکتا ہے تو آ پ نے فرمایا کہ اُ س کو نئے سرے سے پیدا ہونا ضروری ہے ۔ یہ سن کر وہ پر یشان ہو گیا اور پھر آپ سے پوچھا کیا اُس کو پھر اپنی ماں کے پیٹ سے جنم لینا ہو گا ۔ آپ نے کہا کہ نہیں بلکہ اپنے گناہوں سے توبہ کرکہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنا ہو گی ۔وہاں پر سامری لوگ جن کو معاشرے میں بہت ہی حقیر سمجھا جاتا تھا آپ نے وہاں کنوئیں پرایک سامری عور کو  اُس کا ماضی بتا کر اُس کے من میں زندگی کے پانی کو حاصل کرنے کی پیاس پید ا کر دی  اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ابدی زندگی میرے وسیلہ سے ہے اور میں ہی ہمیشہ کی زندگی کا پانی اور روٹی ہوں یعنی اگر کوئی میرے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگتا ہے تو اُس کو مِل جاتی ہے۔ آپ نے اس بات کا انکشاف کیا کہ نجات کا دروازہ صرف میں ہوں اور کوئی میرے وسیلہ کے بغیر نجات نہیں پا سکتا۔عیسیٰ مسیح  نے محنت اٹھانے والوں اور بوجھ تلے  دبے ہوئےلوگوں کو دعوت دی کہ نجات اور رُو ح کے آرام  و راحت کے لئے میرے پاس آیئں ۔ آ پ نے یہ دعوت ہر انسان کو دی چاہے وہ کسان ،غریب ،مزدور ، یتیم ،بے سہارا، بیمار ، بینائی سے محرو م یا کسی بھی معذوری کا شکا ر ہے ۔لیکن اُس وقت  امُرا  نےاپنی دولت کے نشے میں آپ کی نہیں سُنی لیکن چرواہوں ، مچھیروں اور معاشرے کے ٹھکرائے ہوئے لوگوں کی زندگیا ں آپ کی تعلیم سے بدل گئیں۔

2۔روزمر ہ زِندگی کےمتعلق تدریس و تفہیم :

حضرت عیسیٰ مسیح  نے  انسانوں کو ایک حقیقی روحانی زندگی گزارنے اور امن و سکون ، بردباری ، برداشت ، سچ بولنے ،شفقت اورمحبت کا درس دیا تا کہ ایک خوبصورت معاشرے کا قیام عمل میں آسکے۔

آپ نے فرمایا:

1۔ قسم نہ کھاؤ بلکہ تمہارا کلام ہاں کی جگہ ہاں اور نہ کی جگہ نہ ہو کیونکہ جو اِ س سے زیادہ ہےوہ انسان کو بدی کی طر ف لے جاتا ہے ۔

2۔اگر کوئی تمہارے  ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دو ۔

3۔ اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دعا کرو اور اپنے ہمسائے سے اپنی مانندپیار کرو۔

4۔جب تم خیرات کرو تو اُ س کا چرچا نہ کرو بلکہ وہ پو شیدہ ہو کیونکہ یہ ابدی سرما یہ کاری ہے ۔

5۔ جب دعا کرتےہو تو لوگوں کے  دکھاوے کے لئے نہ کرو بلکہ تمہاری دعا پروردِگار کے سامنے پوشیدگی میں ہو کیونکہ وہی بدلہ دے گا ۔

6۔ جب روزہ رکھو تو اپنی صورت منافقوں کی طرح  اُداس نہ بناؤ تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں بلکہ کہا کہ اپنے سر میں تیل ڈال اور اپنا منہ دھو تاکہ اللہ تعالیٰ تجھے اس کی جزا دے ۔

7۔ جب تم دوسروں کے قصور معاف کرو گے تو تمہارا رب بھی تمہارےگناہ معاف فرما دے گا ۔

8۔ آپ نے فرمایا کہ زندگی کی ضروریا ت کے بارے فکر مند نہ ہونا  بلکہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر لیتے ہو اور اُس کے احکا م مانتے ہو تو وہ تمہاری بنیادی ضروریات جیسے (خوراک، مکان اور لباس) سب کچھ مہیاکر دیتاہے۔

9۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان پر بہت زور دیا اور کہا کہ اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا تو تم پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے ہٹاسکتے ہو ۔

10۔ آپ نے کہا کہ ہم پروردگا ر سے اگر پاک روح مانگتے ہیں تو وہ ہمیں دے سکتا ہے جو ہمارے باتن میں سکونت کرتا ہے ، وہ راہنمائی کرتا ،  ہمارا ہادی ، زندگی بخشتا اور  مشکل کے وقت مومنوں کو تقویت دیتا ہے ۔

11۔ آپ نے اپنے حواریوں کو یہ نہیں کہا کہ تم مجھ پر ایمان لا کر امن و امان یا عیش و عشرت کی زندگی گزارو گے بلکہ تم کو دکھوں ، مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑ ے گا ، ستایا جائے گا ، مارا پیٹا جائے گا اور قتل بھی کیا جائے گالیکن پریشان نہ ہونا بلکہ خوش ہونا کہ تم اللہ تعالیٰ کے محبوب کی خاطر دُکھ سہہ رہے ہو ۔ البتہ آپ نے وعدہ کیا کہ ہر مشکل وقت اور مصیبت میں تمہیں خدا کی طرف سے فضل اور مدد مِلے گی ۔

3۔جھوٹے استادوں کے بارے تعلیم:

سیّد نا عیسیٰ مسیح نے جھوٹےاستادوں  اور منا فقوں کی پرُ زور مذمت کی ہے  اور کہا کہ یہ اندھے راہ بتانے والے ہیں جو لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ آپ نے کہا کہ ایسے منافقوں کا باپ شیطان ہے اور آپ نے اپنے پیرو کاروں کو اِن سے خبردار ہنے کو کہا بلکہ اُس وقت کچھ لو گ تو ایسے بھی تھے جو قیامت کا بھی انکار کرتے تھے ۔ ایسے لوگ  دوسروں کو مرُید بنانے کی سر توڑ کو شش کرتے ہیں لیکن اپنے مرُیدوں کواپنی غلط تعلیم کی بدولت اپنے سے بھی زیادہ جہنمی بنا دیتے ہیں اوریہ بھیڑوں کے لباس میں پھاڑنے والے بھیڑئیےہیں ۔

4۔مختاری کے متعلق :

آپ نے روپیہ پیسہ اور مال و دولت کےصحیح استعما ل کا درس دیا ۔ ایک دفعہ ایک بیوہ نے عبادتخانہ کے خزانہ  میں دو دمڑیا ں ڈالیں تو  آپ نے اُس کی بے حد تعریف کی اور کہا کہ اِس بیوہ نے سب سے زیادہ  ڈالا ہے کیونکہ اُس نے اپنے مال کی کثر ت کے سبب سے نہیں بلکہ اپنی مُحتاجی میں جو کچھ اُ س کے پاس تھا دیا ہے ۔آپ نے یہ بھی کہا کہ پروردِگار نے ہر انسان کو بہت ساری خوبیا ں اور صلاحیتیں دی ہیں جن کو اُس کو چاہیے کہ وہ اللہ کی رضا، خوشنودی اور اُس کی عزت و جلال کے لئے استعمال کرے ۔آپ  نے اپنے  حواریوں کو یہ بھی حکم دیا کہ میرے واپس آنے تک یہ سارا لین دین کرنا  اور پردگار کے نام کا چرچا  کرتے رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہیں روپیہ پیسہ، وقت، صلاحیتں ، نعمتں ، اور مواقع فراہم کئے ہیں ۔

5۔ جنت اور دوزخ:

انا جیل میں آپ نے دوزخ  اور ابدی َسزا کا کم از کم70  ذکر کیا ہےکیونکہ یہ ابلیس اوراُس کے فرِشتوں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ آپ نےکہا کہ دوزخ سے بچو جہاں کِیڑا نہیں مرتا اور آگ نہیں بجھتی لیکن آپ نے اپنےماننے والوں کو کہا کہ میں تم سے تھوڑی دیر کے لئے جُدا ہوں گا ، جا کر تمہارے لئے مکان تیار کروں گا اورپھر آ کر تمہیں اپنے ساتھ لے لوُں گا  ۔ جب آپ کو صلیب پر مصلوب کیا  تھا تو  آپ کے ایک طرف ڈاکو کو بھی مصلوب کیا گیا تھا لیکن اُس  نے صلیب پر ہی توبہ کی  تو آپ نے کہا کی تو آج ہی میرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔سیّد نا عیسیٰ مسیح نےکہا بہشت میں ہمں خدا تعالیٰ کی قربت حاصل ہو گی اور وہی ہما را اصل وطن ہے کیونکہ اس زمین پر ہم پردیسی اور مسافر ہیں اور اُن کا زمین پر آنے کا مقصد بنی نوع انسان کو یہ خوشخبری  سنانا تھا کہ وہی جنت الفردوس جانے کاوسیلہ ہیں ۔

6۔ مومنوں کےلئے تعلیم:

آپ کی تعلیم کا مقصدہر انسان کی زندگی کو تبدیل کرنا اور اُس کو بہتر بنانا تھا تا کہ ایک انسان کی زندگی دوسرے انسانوں کے لئے پھلدار ہو ۔آپ نےکہا کہ  انسان بھی ایک درخت کی مانند ہے  اگر وہ پھل نہیں لاتا تو وہ کاٹا اور آگ میں جھونک دیا جاتا ہے  اور ہم ہر ایک کو اُس کے کردار سے ہی پہچان سکتے ہیں اور دراصل انسان کا کردار ہی اُس کے اچھا اور برُا پھل ہونے کی دلیل ہے ۔ آپ نے  یہ شدید خواہش کی کہ ہم اچھا پھل لا ئیں اور بہت سارا  پھل لائیں۔ خا ص کر جو اُن کے پیرو کا رہیں اُن کو تیس گنا،ساٹھ  گنا اور سو گنا پھل لانا چا ہیے ۔ یہاں بات تھوڑے یا بہت کی نہیں بلکہ اچھا پھل لانے کی ہے ۔ اور جب کبھی کسی کی زندگی میں آزمائش آتی ہے تو وہ اُس کو سدھارنے اور بہتر اور مضبوط بنانے کے لئے آتی ہے اور یہ ضروری ہے کہ اللہ کے   نیک بندوں کی آزمائش ہو تا کہ اُن کی پروردگار کی مرضی بجا لانے  کے لئے  کانٹ چھا نٹ کی جائے۔

7۔ نبوت :

جب آپ روح ِزمین پر تھے  تو آ پ نے یروشلم کی تباہی  و بربادی کی نبوت کی جوسنہ 70 ء میں پوری ہوئی۔پھر آپ نے فرمایا کہ گمراہ نہ ہو جانا کیونکہ بہت سارے لوگ اس دُنیا میں میرے نام سے آئیں گے  اور کہیں گے کہ میں عیسیٰ  مسیح ہوں اور بہت سارے لوگوں کو گمراہ کر یں گےاور تم  لڑ ائیاں اور لڑائیوں کی افواہ سُنو گے  خبردار ! گھبرا نہ جانا کیونکہ اِن باتوں کا ہونا ضروری ہے لیکن  اُس وقت خاتمہ نہ ہو گا ۔ کیونکہ قوم پر قوم اور سلطنت  پر سلطنت چڑ ھائی کرے گی اور جگہ جگہ کال پڑیں گے اور بھونچال آَئیں گےلیکن یہ سب مصیبتوں کا شروع ہی ہوں گی  اُس وقت لوگ تم کو ایزا  دینے کے لئے پکڑوائیں گے اور تم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھیں گی۔ اُس  وقت بہت سارے لوگ ٹھوکر کھائیں گے اور ایک دوسرے کو پکڑوائیں گے اور ایک دوسرے سے عداوت رکھیں گے۔ آپ نے کہا کہ بہت سارے بہت سارے جھوٹے  نبی اُٹھ کھڑے ہوں گے اور بہت ساروں کو گمراہ کریں گے اور بے دینی کے بہت بڑھ جانے سے بہتوں کی  اللہ تعا لیٰ اور اُس کے لوگوں سے محبت ٹھنڈی پڑ جائے گی  مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا  اور تمام دُنیا میں حضرت عیسیٰ مسیح کی  بادشاہی کی خوشخبری سنائی جائے گی تا کہ تمام قوموں کے لئے  گواہی ہو  تب خاتمہ ہو گا ۔اور حضرت عیسیٰ مسیح  پھر تشریف لائیں گے اچھے اور برُے لوگوں کی عدالت کریں گے ۔

مسیح کی تعلیمات کو اگر اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے تووہ ہے محبت  ،راسخ العقیدہ  یہودی کوئی 600 حکموں کو مانتے تھے لیکن عیسیٰ مسیح نے سب احکام کا خلاصہ دو حکموں میں سمو دیا ہے (1) خدا سے محبت رکھو  اور (2) اپنے ہم جنس انسانوں سے محبت رکھو  ۔ آ پ نے فرمایا کہ اگر تم آپس میں محبت رکھو گے تو اِس سے جانیں گے تم میرے حواری ہو  اور آپ نے صلیب پر اپنی عملی محبت کو ظاہر کیا ا ور فرمایا کہ اِس سے بڑھ کر کوئی محبت نہیں کر سکتا کہ اپنی جان دوسروں  کے  لئے فدیا میں دے ۔

اُن کی تعلیم یہ ہے کہ ہم صر ف اچھے لوگوں سے ہی نہیں بلکہ سب لوگوں سے محبت رکھیں اور اپنے دشمنوں سے بھی کیونکہ آپ بِنا تفریق سب سے محبت کرتےہیں۔