عیسیٰ کی آمدِثانی

حضرت عیسیٰ مسیح کی آمد ِثانی کی حقیقت کو بیا ن کرنے کے لئے  یو نانی کے تین لٖفظ استعمال  کئے جاتے ہیں (1) پاروضیا  (ذاتی موجودگی )،(2)  اپو کلپس (مکاشفہ/انکسشاف )(3) اور ایپی فنیا(ظہور ) ۔ ان تین الفاظ سے ظا ہر ہو تا ہے کہ ایک وقت آئے گاجب عیسیٰ مسیح اپنے آپ کوشخصی طو ر اور علانیہ دنیا پرظاہرکریں گے اور کچھ لوگو ں کاخیال ہے کہ اُن کی دوسری آمد تب ہوتی ہے جب موت کے وقت عیسیٰ مسیح روح کو  قبول کرتے ہیں لیکن یہ علانیہ اور دیدنی ظہور نہیں ہوتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب اُن کا صعودہوا تو وہ (1) ذاتی (2) بدنی (3)  دیدنی اور (4) اور  قدرت کے ساتھ تھا  کیونکہ جب آپ کی پہلی آمد ہوئی تو ایک  عاجز اور حلیم  بن کر تشریف لائے لیکن دوسری آمد جلال کے ساتھ ہو گی ۔ آمد ِ ثانی میں تین نظریا ت  رائج ہیں ۔

پہلا نظریہ :

مسیح کی آمدِ ثانی   ہزا ر سالہ بادشاہی سے پہلے نہیں بلکہ بعد میں ہو گی ۔

دوسرا نظریہ :

اس نظر یہ کے حامی مسیح کی ہزار سالہ بادشاہت  کی لفظی تکمیل پر  یقین نہیں رکھتے بلکہ یہ ما نتے ہیں کہ جب مسیح آئے گا تو جلدی سے  ہر چیز کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ اُس کے مقدسین  ٖفِضا میں اُس کا استقبال  کریں گے اور یہ خفیہ ہو گا اور جب آپ کا ظہور ہو گا  تو  آپ اپنے مقدسوں کے ساتھ آ کر اپنی بادشاہی  قائم کر یں گے ۔

1۔ مسیح کی آمد ِ ثانی کی پیشین گو ئیاں :

عیسیٰ مسیح کی پہلی آمد کی پیشین گو ئیا ں کی  گئی تھیں وہ حرف بہ حر ف پوری ہوئیں اور آمدِ ثانی کے وقت بھی حرف بہ حرف پو ری ہونگی اور وہ استعماراتی یا روحانی معنوں میں نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں پُوری ہو نگی

الف۔ انبیا نے اس کی پیشین  گوئیاں کیں۔

حضرت دانیال نے رات رویا میں دیکھا کہ ایک شخص آدمزاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا

ب۔ عیسیٰ مسیح نے خود فر ما یا کہ جب آپ دوبارہ اس زمین پر اپنے جلال میں  آئیں گے تو سب فرشتے بھی اُسکے ساتھ آئیں گے تب وہ اپنے جلال کے تخت پر بیٹھے گا ۔

ج۔عیسیٰ مسیح کے ایک حواری پو لوس نے اس کی پیشین گو ئی کی اور اپنے  ایک شا گرد کو نصیحت کی کہ وہ  اُس کے حکم کو مسیح کے ظہور تک بے داغ اور بے الزام رکھ۔

د ۔ فرشتوں نے اس کی پیشین گوئی کی ۔ جب عیسیٰ مسیح نے اس دنیا سے صعوُ  د فرمایاتو فر شتہ نے کہا کہ تم آسمان کی طرف کیوں دیکھتے ہو اس عیسیٰ مسیح کو جس تم نے آسمان پر جاتے دیکھا ہے اسی طر ح وہ پھر آئے گا  اور اِن میں سے کو ئی پیشین گو ئی اُس کی پہلی آمد پر  پوُری نہیں ہوئی ۔

2۔ مسیح کی آمد کا وقت :

مسیح کی دوسری آمد ایک بھید ہے جسےصرف خدا جانتا ہے کیونکہ عیسیٰ مسیح نے کہا کہ اُس گھڑی کی بابت کو نہیں جانتا ۔نہ آسمان کے فرشتے ، نہ میں مگر صرف خدائے واحد ۔

3۔ مسیح کی آمدِ ثانی کا مقصد :

الف۔ مقدسوں کی نجات کو کامل کرنا:وہ زمین پر اس لئے تشریف لائیں گے کہ وہ بنی نوع انسان کو گناہ کی موجودگی سےچھڑائیں اور اپنے لوگوں کی نجات کو کامل کریں۔

ب۔ اپنے مومنین  میں جلا ل پانا:  یہ اُس دن ہو گا جبکہ وہ اپنے مومنوں میں جلا ل پانے اور سب ایمان لانے والوں کے سبب سے تعجب کا باعث ہونے کے لئے آئے گا ۔

ج۔ تاریکی کی پوشیدہ باتوں کو ظاہر کرنا : آپ ہی تا  ریکی کی پو شیدہ باتوں اور دِلوں کے منصوبے   ظاہر کریں گے ۔

د ۔ عدالت کرنا:  آپ ہی زندوں اور مُردوں کی عدالت کریں گے ۔

ہ۔بادشاہی کرنا : ساری دُنیا میں سید نا عیسیٰ مسیح کی بادشاہی قائم ہو گی ۔

و۔اپنے لوگوں کو لینے کے لئے ۔ وہ اس لئے دوبارہ تشریف لائیں گے تا کہ وہ لوگوں کو ساتھ اپنے پاس لے جائیں جہاں رنج و الم نہ ہو گا بلکہ  دائمی خوشی ہو گی۔

ز ۔ موت کو نیست کرنا: آ پ اپنی بادشاہی میں  اپنے تمام دشمنوں کو شکست دیں گے اور اپنے پیروں تلے لے آئیں گےسب سے آخر میں جس دشمن کو شکست دی جائے گی وہ دشمن ہےموت ۔

4۔ مسیح کیسے آ رہا ہے ؟

الف ۔ فضائی  استقبال کے وقت خٖفیہ: جب دنیا میں تھے تو  آپ نے فرمایا تھا وہ دن چور کی طر ح آئے گا یعنی کسی کو پتہ بھی نہیں ہو گا اور اس لئے آپ نے دُنیا کے ہر شخص کو وارننگ دی تھی کہ تیار رہو کیونکہ جس گھڑی تم کو گمان بھی نہیں ہو گا کہ “میں” آ جاؤں گا  ۔

ب ۔ظہور کے وقت علانیہ: دیکھو وہ بادلوں پر آنے والا ہے ہر ایک آنکھ اُسے دیکھی  گی جنہوں نے آپ کو چھیدا تھا وہ بھی دیکھیں گے

5۔ مسیح کہاں آ رہا ہے ؟

الف ۔ ٖٖفضائی   استقبال کے وقت مو منین   ہوَا  میں اُس سے ملیں گے ۔

ب۔ ظہور کے وقت مومنین  اُس کے ساتھ زمین پر اُتریں گے اوروہ زیتون کے پہاڑپر  اُترے گا ۔

6۔ اُس کی آمد کا انداز :

الف ۔ عیسیٰ مسیح بڑ ی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے با دلوں پر آئیں گے ۔

ب ۔وہ خدا تعالیٰ  کے نور میں  اپنے فرشتوں کے ساتھ تشریف لائیں گے ۔

ج ۔ آپ اپنے  جلال میں تشریف لائیں گے ۔

د ۔ آپ جناب ِ عیسیٰ مسیح  بھڑ کتی ہو ئی آگ میں آسمان سے ظا ہر ہو نگے  اور جو لو گ خدا کو  نہیں ما نتے ہیں اور جو عیسیٰ مسیح کی خوشخبری کو نہیں ما نتے اُن سے بدلہ لیں گے ۔

ہ۔ بڑی  قدرت  اور جلال کے ساتھ آپ آئیں گے ۔

و۔ آپ جسما نی صورت میں جِس طر ح صعود فرما یا تھا تشریف لائیں گے ۔

ز۔ بڑی للکار اور مقرب فرشتہ کی آواز اور خدا کے  نر سنگے کے ساتھ  عیسی ٰ مسیح آئیں گے ۔

ی۔ عیسیٰ مسیح اپنے مومنین کے ساتھ ، فرشتوں کے ہمراہ  اور اچا نک تشریف لائیں  گے

7۔مسیح کی آمد ِ ثانی کی نشانیاں :

اُس کی آمد کی 33 نشانیاں درج ہیں اِن میں سے اکثر آج کل  ظا ہر ہو رہی ہیں ۔

(1) برُے دن (2) خود غرضی  (3) زر دوستی (4) شیخی بازی (5) غرور (6) کُفر  ،بدگوئی  (7) ماں باپ کی نا فرمانی (8) نا شُکرا پن (9) نا پاکی  (10) طبعی محبت کا فقدان (11) سنگدِلی ۔ صلح  کی شرا ئظ  کو تو ڑنا (12) تہمت لگانا (13) بے ظبطی  (14) تُند مزاجی  (15) نیکی سے دشمنی  (16) دغا بازی (17)ڈھٹائی  (18) گھمنڈ (19) خدا کی نسبت عیش و عشرت سے زیادہ پیار  (20)  گناہ سے بھری چھچھوری  عورتیں (21) طر ح طرح کی نفسانی خواہشیں (22)تعلیم پاتے رہنالیکن کبھی حق کی پہچان تک نہ پہنچنا

د س نشانیاں جن کی فہرست آپ نے دی

(1)جھوٹے مسیح  (2)لڑ ائیاں اور لڑ ائیوں کی افوا ہیں (3) کال (4) وبائیں  (5) بھونچال (6) بے دینی میں اضا فہ  (7) محبت کا ٹھنڈا پڑنا (8)کھا نا  (9) پینا (10)  بیا ہ شادیاں

اِن کے علاوہ دیگر  نشانیا ں

(1) یر و شلم کی بربادی

(2) مسیح کے لوگوں کی تکمیل

(3) ساری دنیا میں  مسیح کی خوشخبری کی منادی

(4) مخالف ِمسیح کی آمد

اِ ن تمام حقا ئق کی روشنی میں آج ہمارے لئے  موقع ہے کہ مسیح کی خوشخبری کو قبول کر لیں اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لے آئیں اور ہمیں پھر موقع نہ ملے اور مسیح کو قبول کرنے کے لئے آپ کو کسی سر ٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے  ۔ اگر آپ مسیح کو قبول کرنا چا ہتے ہیں یہ  دعا دو ہرائیں ۔

اے میرے پرورگار میں  اقرار کرتا ہوں کہ میں گنا ہ گار ہوں اور میں نے  ہمیشہ وہ کام کئے ہیں جو تجھے نہ پسند ہیں ۔ میں اپنے گناہوں پر شر مندہ  ہوں اور تجھ سے سید نا عیسیٰ مسیح کے وسیلے معافی ما نگتا ہوں اور تیرے کفارہ کو قبول کرتا ہوں۔ میں  تیرے پا س آتا، اور تیری مدد مانگتا ہو ں تا کہ ہر رو ز تیری مر ضی کے مطا بق زند گی  گزا ر سکوں۔آمین