سیرت المسیح

1۔پاکیزگی

عیسیٰ مسیح کی زندگی پا کیزگی میں بنی نو ع انسان کے  لئے نمونہ ہے   اور آپ نے مر یم  صدیقہ جو کہ کنواری تھیں  کے پاک بطن سے جنم لیا اور اُن کی پاک دامنی اورتقدس کا احترام تا قیامت ہر  زمانہ کے لوگ کرتے رہیں گے کیونکہ آپ مبارک ہیں ۔ عیسیٰ مسیح کی  ذات لاثانی ہےاور آپ روح اللہ  اور کلام اللہ ہیں اور آپ کی زندگی گناہ سے مبرُاتھی ٖٖ اور  آپ نے راستبازی  اور پاکیزگی کے کام کئے  آپ کے بہت ہی قریبی حواری پطرس بھی آ پ کو “قدوس اور راستباز ” کہہ کر آپ کا ذکر کرتے ہیں ۔ لوگوں نے آپ پر بہت ظلم و ستم بھی کئے ، گالیا ں بھی دیں ، کانٹوں کا تاج بنا کر  آپ کے سر پر رکھا، منہ پر تھوکا ، آخر میں صلیب پر   چڑ ھا   دیا لیکن اِس کے باوجود آپ نے نہ تو کِسی پر ظلم کیا ، گالی دی اور نہ ہی کِسی کو براُ کہا بلکہ آپ نے کہا اے پروردِگار اِن کو معاف فرما دیجئے کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں   اور کیونکہ آپ انسان کی کمزوریوں، کوتاہیوں ، لاچاریوں سے واقف تھے اِس لئے آپ نے اُن کے تمام گناہ معاف کر دیئے۔ آپ نے صلیب پر ایک ڈاکو کو جس نے مرنے سے پہلے توبہ کی اُس کومعافی کی بشارت دی اور “جنت الفردوس ” لیجانے کا وعدہ کیا ۔

2۔انسانوں سے محبت :

عیسیٰ مسیح  نے اپنی محبت کو دوطرح سے ظاہر کیا  اور اپنے ماننے والوں کو بھی کہا کہ

1۔اپنے پروردِگار سے اپنے پوُرے دِل و جان ، اپنی پوُری طاقت اور اپنی عقل سے محبت رکھو۔

2۔بنی نوع انسان سے پیار کرو۔

آپ نے اللہ تعالیٰ کی فرمابرداری سے پروردِگار سے محبت کو ظاہر کیا آپ نے فرمایا کہ آپ دُنیا میں اِس لئے تشریف لائے ہیں کہ  آپ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کریں اور آپ نے جو کام کرنے کے لئے آئے تھے وہ مکمل کیا۔ آپ کو اپنی قوم اور لوگوں سے اور اپنے حواریوں سے بھی خاص اُنس تھا ۔ صر ف یہی نہیں آپ کو معاشرے کے کم تر  ،حقیر اور گنہگاروں سے بہت محبت تھی  کیونکہ آ پ فرماتے تھے کہ بیماروں کو طبیب کی ضرورت ہے نہ کہ تندروستوں کو  ۔ گناہ ایک بیماری ہے جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی مدد اور خاص فضل کے بغیر  چھٹکارہ نہیں حاصل کر سکتا۔ آپ کی آمد کا مقصد  کھو ئے ہووں کو ڈھونڈنا  اور نجات دینا تھا۔ عیسیٰ مسیح نے فرمایا کہ اپنے  دشمنوں سے محبت رکھو اور لعنت کرنے والوں کےلئے  رحمت چاہو اور ستانے والوں کےلئے دعا کرو۔بچوں سے آپ بہت  پیار کرتےتھے اور آپ نے کہاکہ بچوں کو میرے پاس آنے دو اِن کو منع نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی معصوم اور دِل کے صاف  لو گ پسند ہیں۔ عیسیٰ مسیح غریبوں کے ہمدردتھے اور وہ خودبڑھی کا کام کرتے تھے اور وہ بنی نوع انسان کے لئے  غریب بن گئے  اورآپ نے فرمایا کہ زمین پر اپنے لئے مال جمع نہ کرو جہاں پر زنگ اور کیڑا خراب کرتا ہے بلکہ آخرت کے لئے جہاں ابدی زندگی اور ہمیشہ کا آرام ہے ۔ اور آپ نے  کہا کہ کھانے پینے کی چیزوں کے لئے فکر مند نہ ہونا بلکہ اپنی ہر فکر پروردِگار کو دے دینا کیونکہ اُس کو ہر انسان اور جاندارکی  فکر ہے ۔

3۔لوگوں کو بچانے کی خواہش:

آپ میں انسانوں کو بچانے کی زبردست خواہش پائی جاتی تھی اور ہمیشہ آپ بھٹکے ہُو ئے گنہگاروں کے پیچھے  جاتے تھے اور اُن کے لئے آپ کی محبت ختم نہیں ہوتی تھی اور اِس کی وجہ سے لوگ آپ پر الزام تراشی بھی کرتے تھے کہ آپ شرابی اور گنہگاروں سے کیوں ملتےہیں لیکن آپ کی محبت  بلا تفریق تھی ۔ آپ نے انتہائی سادہ اور عام فہم زبان میں بات کی اور آپ ایک اچھے راہبر اور راہنماہ ہیں جس طرح سے ایک چرواہا اپنی بھیڑ کو اگر کھو جائے تو وہ ڈھونڈتا ہے اِسی طرح مسیح بھی انسانوں کو جو بھٹک گئے ہیں اور راہِ راست سے پھِر گئے ہیں کو تلاش کرتا ہے تا کہ اُن کا ملاپ اللہ تعالیٰ سے کروا دے ۔آپ کی ذات میں خدا کی  محبت نظر آتی ہے اور جہاں کے ہر انسان کو بچانے اور اُس کے دُکھوں سے بچا نے کی تڑپ پائی جاتی تھی اور آپ کی محبت ہر انسان کے ساتھ یکساں تھی ۔ آپ انسان کی بے بسی ، لاچاری اور کمزوری اور گردن کشی دیکھ کر روتے تھے۔

4۔ انسانی ہمدردی:

عیسیٰ مسیح انسانوں کے ہمدرد تھے اور اُن کو لوگوں پر ترس آتاتھا  اور انسان کی بنیادی ضرورتوں کاخیال بھی رکھتےتھے ۔ آپ نے بھوکوں کو کھا نا کھلاِیا، بہت سارے اندوھوں کو  بینائی عطا کی اور بدروح گرفتا  لوگوں کو رہائی بخشی ۔ انسانی ہمدردی کے ناطے آپ بے بس کوڑھیوں جن کو مقامی آبادی کا کوئی شخص چھونا پسند نہیں کرتا تھا اور گھروں سےباہر رہتے تھے معاشرے سے الگ تھلگ اُن کو کوڑھ سےپاک کر دیا ، بیماروں کو شفا  بخشی، مُردوں کو زندہ کیا اور آپ نے انسانی ہمدردی کو اپنے عملی کاموں سے ظاہر کیا۔

5۔ پروردگار سے تعلق:

آپ کا اللہ تعالیٰ سے تعلق اِس قدر مضبوط تھاکہ انسانی جسم ہونے کے باوجود آپ دعا میں ساری ساری رات گزار دیتے تھےاورزندگی کے ہر فیصلے سے پہلےآپ دعا ضرور کرتےتھے۔آپ انسان کے گناہوں سے واقفت تھے اور آپ بنی نوع انسان کے لئے  زور زور سے پکاُر کر اور آنسو ُ بہا بہا کر دعا اور التجا کرتےتھے اور اکثر پہاڑ پر تنہا  پروردِگار کی حضوری میں وقت گزار دیتے تھے۔ آپ کو ابلیس کی طرف سے بہت ساری آزمائشوں کا سامنا ہوُا اور اپنے ماننے والوں کو بھی کہا کہ ہر آزمائش پر غالب آؤ جس طرح میں غالب آیا ہوں ۔ یہ خالقِ کائنات سے محبت تھی کہ آپ نے زمینی زندگی میں بھی اپنے رب سے تعلق کو قائم رکھا۔ آپ نے دوسروں کی شفاعت کی اور آپ نے اپنے بہت ہی قریبی حواری پطرس کو شیطان سےبچایا،آپ نے ہمیشہ پروردِگار کی مرضی کو پوُرا کیا اور اپنے حواریوں کواس طرح دعا کرنا سکھایا۔

اے ہمارے پروردِگار توُ جو آسمان پر ہے

تیرا نام پاک مانا جائے تیری بادشاہی آئے

تیری مرضی جیسے آسمان پر پوُری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو

ہمارے روز کی روٹی آج ہمیں دے  اور جس طرح ہم اپنے

قصورواروں/قرضداروں کو معاف کرتے ہیں۔ توُ بھی ہمیں معاف کر

ہمیں آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں برائی سے بچا

کیونکہ بادشاہت ،قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں ۔آمین

اگر ہم کسی کا گناہ،غلطی خطا اور قصوُر معاف کر دیتے ہیں توپروردِگار بھی ہمیں معاف فرما دیتے ہیں اور یہ بہت ہی سادہ الفاظ میں دعا ہے جو ہمارا رشتہ ہمارے رب کے ساتھ اور انسانوں کے ساتھ جوڑ دیتی ہے  اور دعا ہی ہمیں آزمائش  پرفتح پانے کی طاقت دیتی ہے ۔

6۔عاجزی و انکساری:

آپ نے کہا غصہ نہ کر و کیونکہ ہر طرح کے  لڑائی جھگڑے کی جڑ یہی ہے  جو بعد میں الزام تراشی ،تشدد، مار پیٹ اورقتل و غارت کا سبب بنتا ہے ۔ دوسروں سے ہمیشہ نرم مزاجی سے پیش آتے تھے۔ آپ کا دِل انتہائی نرم تھا  آپ کہتے تھے کہ مجھ سے سیکھو کیونکہ میں حلیم ہو ں اور دِل کا فروتن ۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ کو ئی صالح یااللہ کا  نیک بندہ جھگڑا کرے بلکہ سب کے ساتھ نرمی کرے اور تعلیم دینے کے لائق اور برُدبار  اور مخالفوں کو حلیمی سے تادیب کرنے والا ہو ۔ آپ نے ہمیشہ پروردِگار کے قدوس نام کو اونچا کیا اور کبھی اپنے نام کوسامنے نہیں رکھا اور نہ ہی آپ  عوام میں اشتہار بازی اور شہرت کو پسند فرماتے تھے کیونکہ اِس سے غرور اور تکبر پیدا ہوتا ہے ۔ آپ محصُو ل لینے والوں جن کو معاشرے میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا اور گنہگاروں کے ساتھ فروتنی کے ساتھ میل ملاپ رکھتےتھے ۔ آپ پر بہت سارے الزامات بھی لگائے گئے لیکن پھربھی آپ نے خاموش رہ کر سب کچھ برداشت کیا ۔

آپ نے اپنے حواریوں کے پاؤں دھو کر اپنی عاجزی و انکساری کو ظاہرکیا۔

ہم میں سے ہر انسان اُن کی طرح کی زندگی گزار سکتا ہے اگر وہ اللہ سے اور اُس کے لوگوں سے محبت کرتا  ہے ، دعا کے وسیلہ سے اپنے رب سے اپنا تعلق قائم رکھتا ، اپنے  گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے  عیسیٰ مسیح کے صدقے  ما فی مانگتا  اور دوسروں کی غلطیوں و خطاؤں کو معاف کرتا ، دوسرے بہن بھائیوں کا ہمدرد، مدد گار  اور اُن کی ضروریات، دکھ درد اور تکلیف میں اُن  کا خیال رکھتا ہے ۔ دوسرے انسانوں سے نرم مزاجی  سے پیش آتا ہے تووہ حقیقی معنوں میں مومن اور عیسیٰ مسیح کا پیروکار ہےچاہے اُسکا تعلق دُنیا کے کسی بھی گروہ، فرقہ یا مذہب  سے ہو کیونکہ آپ کی محبت ہر خاص و عام کے لئے ہے ۔