تعارف

آج سے دو ہزار سترہ سال پہلے ایک عظیم شخصیت کی پیدائش ہوئی جن کو ابنِ مریم اور عیسٰی مسیح کے نام سے جانا جاتا ہے جنہوں نے اپنے کردار ، تعلیم و تربیت اور معجزانہ زندگی سے دُنیا کی کایا پلٹ دی ۔ اُنہوں نے  انتہائی  غریب و پسماندہ لوگوں خاص کر مچھیروں، چرواہوں میں توبہ اوراللہ تعالیٰ  کی محبت اور دین الٰہی کی تبلیغ فرمائی اور اپنی تعلیم سے بہت سارے عام انسانوں کا دِل موہ لیا ۔ چار سو سال کے عرصہ میں انہوں نے بادشاہ و فقیر ، عالم و جاہل ، آقا و غلام کو اپنا پیروکار بنا لیا اور دو  ہزار کے عرصہ میں دُنیا بھر کے کروڑوں  انسانوں کا میل خالقِ کائنات سے کروا دیا اورایسی مقدس اور برگزیدہ لوگ آپ کی محبت میں گرفتار ہو گئے جنہوں نےدُنیا میں اپنے اعلیٰ کردار، انسانیت سے محبت ، خدمت ِ خلق اور حسنُِ سلوک کی مثال قائم کی ۔ حاکم ِ وقت اور بعد کے ظالم حکمرانوں نے  آپ کے نام، تعلیم کوظلمُ  و جبر سےمٹانے کی کوشش کی لیکن وہ خود  اِس صفحہ ِ ہستی سے مٹ گئے  ۔سلاطین وافسر شاہی  آپ  کے خلاف ہو گئے لیکن آپ کی ذاتِ عظیم اور تعلیم کو کو ئی  مغلوب نہ کر سکا او ر جس کسی نے آپ کی تعلیم سنیُ اُس کادِل و دماغ پروردِگار کی محبت اور اندھیروں کی مٹا دینے والی تعلیم سے منور ہو گیا اور وہ “دُنیا کے نو ر” کا پیرو ہو گیا اورتاریکی و جہالت کے اندھیر ے مٹ گئے  حق سچ اور زندگی کی روشنی ہر طرف پھیل  گئی اور ہر کو ئی ماننے پر مجبور ہو گیا کہ اے ابنِ مریم ، عیسیٰ المسیح ، کلمتہ اللہ اور  روح اللہ آ پ ہی ہمارے راہنما، ہادی ،سچائی اور جنت الفردوس جانے کا راستہ ہیں۔

آپ  کی زندگی پاک اور گناہ سے مبرُا تھی اور  آپ  کی ذات میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو منسوخ ہونے کے لائق ہو بلکہ  آپ  کے منہ سے نکلا ہو ا  ایک ایک لفظ قابلِ تلقید تھا ۔جنابِ عیسیٰ مسیح کی ذات نے دُنیا کی تاریخ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے رکھ دیا”قبل از مسیح اور بعد از مسیح”  اور اُن کی ذات کو نظر انداز کرنا تاریخ کو مٹا دینے کی ناکام کوشش ہے ۔ آپ کی تعلیم کا محور  “اللہ تعالیٰ سے محبت اور انسانیت سے محبت ہے ” اور دُنیا میں پھیلی نفرت، اونچ نیچ ، بیماریوں ،پریشانیوں اور انسان کے دکھوں کا علاج صرف جنابِ عیسیٰ مسیح ہیں۔بقول میر تقی میر :۔

ابنِ مریم ہوُا کرے کوئی

میرے دُکھ کی دعا کرے کو ئی

آپ نے پست حا ل قوموں  کالے اور گورے کو برابری کا درجہ دیا اور ہر طرح کی تفریق ، اونچ نیچ ،نفرت تعصب ، قتل و غارت ،غصہ ، لڑائی جھگڑا ، ختم کر دیا اور صلح اور پیار ومحبت کا درس دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا حکم یہی ہے کہ “اپنے خالق سےمحبت رکھواور بنی نو ع انسان سے محبت کرو ” دُنیا آج آپ کی تعلیم کی بدولت محبت و ہم آہنگی اور قربانی کے جذبہ سے سر شارہو کر ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔

اندھوں کو آنکھیں دینا ، بیماروں کو شفا دینا ، لنگڑوں کو چلانا اور مرُدوں  کو  زندہ کرناآپ کے معجزات ہیں اور عیسیٰ مسیح کی پیدائش ، زندگی  اور مر کر جی اُٹھنا اور زندہ آسمان پر اُٹھایا جانا بھی معجزہ ہے  ۔جنہوں نے آپ کو صلیب پر چڑھادیااُن کو بھی  معاف کر دیا اور کہا اے پروردگار اِن کو معاف فرما  کیونکہ یہ نہیں جانتے  کہ کیا کرتے ہیں-

آپ کانام اور ذکر قرآن میں سب سے زیادہ   187 دفعہ آیا ہے اور آ پ وہی ہیں جن کا ساری کائنات صدیوں سے انتظار کر رہی تھی اور  آپ  کی آمدسے نبیوں کی ساری  پیشنگوئیاں  پوری ہو گئیں۔ اور آپ آج بھی زندہ ہیں اور ساری کائنات پھر اس انتظار میں ہے کہ  آپ   کب تشریف لائیں اور دُنیا میں عدل و انصاف قائم کرکے حقیقی پروردگار کی بادشاہی قائیم کریں اورسوچنے والی بات یہ ہے کہ  صرف عیسیٰ مسیح ہی کیوں؟

وہ آج بھی آپ اور مجھ جیسے گناگار انسان سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں اور ہمارے ساتھ محبت کرتے ہیں  بشرطیکہ  میں اُن کو اپنے دِل میں آنے کی اجازت دوں ۔اور اگرآپ اُن کے متعلق  نہیں جانتے ہیں تو یہ ویب سائٹ  آپ کی راہنمائی کرے گی کہ  آپ  اُن کو جان سکیں۔